12 مارچ 2015 - 12:18
اوباما کو سر میں گولی مارنا چاہتا تھا، داعش کے مبینہ منصوبہ ساز کا انکشاف

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کرسٹوفرکورنیل نامی ایک شخص نے فاکس ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں اعتراف کیا کہ اگر اسے ایف بی آئی کی جانے سے جنوری میں گرفتار نہ کیا گیا ہوتا تو وہ کیپٹل ہل اور اسرائیلی سفارت خانے میں پائپ بم نصب کرنے کی منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہنا چکا ہوتا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق امریکی پارلیمنٹ (کیپیٹل ہل) پر حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث ریاست اوہائیو سے تعلق رکھنے والے شخص نے انکشاف کیا ہے کہ وہ امریکی صدر براک اوباما کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کرسٹوفرکورنیل نامی ایک شخص نے فاکس ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں اعتراف کیا کہ اگر اسے ایف بی آئی کی جانے سے جنوری میں گرفتار نہ کیا گیا ہوتا تو وہ کیپٹل ہل اور اسرائیلی سفارت خانے میں پائپ بم نصب کرنے کی منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہنا چکا ہوتا۔ بون کاؤنٹی، کینٹکی جیل سے ٹیلیفون پر دیئے گئے اس انٹرویو میں کرسٹوفر نے کہا ہے کہ میں کیا کرتا؟ میں اپنی گن اٹھاتا، اسے اوباما کے سرپر رکھتا اور ٹرگر دبا دیتا، پھر میں سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے اراکین پر بھی گولیاں برساتا اوراس کے بعد اسرائیلی سفارت خانے اور کافروں سے بھری ہوئی دیگر عمارتوں پر بھی گولیاں برساتا، جو ہم مسلمانوں کے خلاف جنگ شروع کر کے ہمارا خون بہانا چاہتے ہیں۔ کرسٹوفر نے بتایا کہ اسے سرحد پار موجود اپنے اسلامک اسٹیٹ کے بھائیوں کی جانب سے احکامات ملے تھے، میرا بھائی شام اور عراق میں ہے، جس نے مجھے مغرب میں جہاد کرنے کے آرڈر پہنچائے اور میں نے ایسا ہی کیا۔

واضح رہے کہ کرسٹوفر کورنیل کے مطابق اس نے حملے کی منصوبہ بندی گزشتہ برس اگست میں کی تھی اور اسے سماجی ویب سائٹ ٹوئٹر پر داعش کی حمایت کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق کورنیل نے ایف بی آئی کے ایک مخبر سے اپنے منصوبے کے بارے میں معلومات شیئر کی تھیں۔ ایف بی آئی کے ایک مخبر کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویز کے مطابق کرسٹوفر کورنیل کو اس وقت گرفتار کیا گیا، جب اس نے پائپ بم بنانے کے حوالے سے ریسرچ کرکے ایک رائفل اور دھماکا خیز مواد خرید لیا تھا اور واشنگٹن کا سفر کرنے والا تھا تاکہ اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنا سکے۔ ملزم کی ابھی تک ضمانت نہیں پوئی اور اس پر حکومتی عہدیداران کے اقدام قتل کی کوششوں، دھماکا خیز اسلحہ رکھنے اور سنگین جرم کی منصوبہ بندی کے الزامات ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی داخلی سلامتی کے ادارے فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن (ایف بی آئی) اور ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی نے پولیس کو خبردار کیا ہے کہ امریکی نوجوان مشرق وسطیٰ میں داعش میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔

/169